Data Loading...

سانیٹ کی ٹعریف اور اقسام Flipbook PDF

جےکےجلالی


130 Views
105 Downloads
FLIP PDF 243.31KB

DOWNLOAD FLIP

REPORT DMCA

‫سانیٹ ‪ :‬تعارف و تجزیہ‬ ‫عبدالعزیزملک‬ ‫لیکچرار اردو‬ ‫گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد‬ ‫)‪(0923447575487‬‬

‫سانیٹ شاعری کی ایک ایسی صنف ہے جویورپ کی متعدد زبانوں میں صدیوں‬ ‫سے قبولیت پذیری کی مسند پر متمکن ہے۔ انگریزی شاعری کا جائزہ لیا جائے‬ ‫تو کئی اصناف سخن مختلف اوقات میں قارئین کی توجہ کا مرکز رہی ہیں۔ان‬ ‫بیلڈ’’‪‘‘(Drama)،‬ڈراما’’‪‘‘(Epic)،‬میں ’’ایپک‬ ‫)‪‘‘(Elegy‬ایلیجی’’‪‘‘(Ode) ،‬اوڈ’’‪‘‘(lyric)،‬لیرک’’)‪(Ballad‬‬ ‫خا ص طور پر قابل ذکر ہیں۔ سانیٹ ان تمام )‪‘‘(Sonnet‬اور’’سانیٹ‬ ‫اصناف میں ممتاز اور فنی اعتبار سے پختہ صنف سخن ہے۔دیگر اصناف سے‬ ‫اگر اس کا موازنہ کیا جائے تو یہ صنف انگریزی میں زیادہ معروف بھی ہے‬ ‫اور مقبول بھی۔اردو زبان میں بھی انگریزی شاعری کے زیر اثر سانیٹ تخلیق‬ ‫کرنے کارواج پروان چڑھا۔ان میں اختر شیرانی ‪ ،‬ن م راشد‪،‬شائق بریلوی‪،‬اوم‬ ‫پرکاش اوج‪ ،‬روشن الل نعیم‪،‬احمد ندیم قاسمی‪،‬منوہر الل ہادی ‪،‬نذیر مرزا برالس‬ ‫‪،‬عزیز تمنائی اورناظم جعفری وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں جنھوں نے اردو‬ ‫سانیٹ نگاری کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔‬

‫سے ماخوذہے۔ ’’سانیتو‘‘ کے معنی )‪‘‘ (Sonetto‬سانیٹ اطالوی لفظ’’سانیتو‬ ‫’’مختصر آواز یا راگ ‘‘ کے ہیں ۔اصطال ح میں سانیٹ چودہ مصرعوں پر‬ ‫مشتمل اس نظم کو کہتے ہیں ‪،‬جس میں قوافی کی ترتیب مقررہ اُصولوں کے‬

‫تحت خاص انداز میں صورت پذیر ہوتی ہے۔وحدت خیال اور احساس کی شدت‬ ‫سانیٹ کے الزمی عناصر تصور کیے جاتے ہیں۔سانیٹ بنیادی طور پر غنائی‬ ‫شاعری کی صنف ہے۔ذہن میں رہے کہ غنائی شاعری کی تمام اصناف سازوں‬ ‫کی ایجاد ’’الئر)‪(lyric‬کی ہم آہنگی کے لیے عمل میں الئی گئی تھیں ۔ مثالًلیرک‬ ‫کی ہم آہنگی کے لیے کی گئی تھی۔’’الئر‘‘ گٹار یا ستار کی ساخت )‪‘‘(lyre‬‬ ‫کے مماثل ایک ساز ہوتا ہے۔بعینہ سانیٹ کا ظہور بھی موسیقی کی ضروریات‬ ‫کے پیش نظر ہوا تھا‪،‬لیکن موسیقی سے اس کی وابستگی زیادہ دیر نہ رہ سکی‬ ‫اورسانیٹ کی حیثیت محض ادبی ہو کر رہ گئی۔سانیٹ میں وقت گزرنے کے‬ ‫ساتھ ساتھ ہئیت اور تکنیک کے تجربات سامنے آئے جن کی بنیاد پر سانیٹ کو‬ ‫تین اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔‬ ‫)‪۱‬۔ اطالوی سانیٹ(پیٹرارکن‬ ‫)‪۲‬۔انگریزی سانیٹ (شیکسپیری‬ ‫‪۳‬۔ا سپینسری سانیٹ‬ ‫اردو شاعری میں ان روایتی ہئیتوں سے ہٹ کر بھی تجربات ہوئے جن کا ذکر‬ ‫تھوڑا آگے چل کر پیش کیا جائے گا۔سر دست مذکورہ اقسام کی وضاحت‬ ‫مقصود ہے۔‬ ‫‪:‬اطالوی سانیٹ‬ ‫اطالوی سانیٹ قدیم اور پرانی شکل کا حامل تصور کیا جاتا ہے۔اس کو با قاعدہ‬ ‫صنف سخن کے طور پر متعارف کروانے کاکام اطالوی شاعر ’’پیٹرارک‘‘سے‬ ‫منسوب کیا جاتا ہے۔اس نے اپنی ذہانت اور مہارت سے سانیٹ کی اس طرح‬ ‫فنی اور تکنیکی تکمیل کی کہ آج بھی پیٹرارک کا سانیٹ کالسیکی سانیٹ‬ ‫تصور کیا جاتا ہے۔مواد اور ہئیت کے اعتبار سے یہ سانیٹ مخصوص تکنیک‬ ‫کو بروئے کار التا ہے۔اس میں چودہ مصرعے ہوتے ہیں جو دو بندوں پر‬ ‫سے تشکیل پذیر ہوتا )‪Octave‬مشتمل ہوتے ہیں۔ پہال بند آٹھ مصروں(مثمن‬

‫ہے۔جو خود چار چار مصرعوں (مربع)کے دو بندوں سے بنتا ہے۔دوسرا بند چھ‬ ‫پر مشتمل ہوتا ہے۔مثمن حصے میں دو قافیے )‪Sestet‬مصرعوں (مسدس‬ ‫‪:‬استعمال ہوتے ہیں‪،‬جن کی ترتیب درج ذیل ہو گی‬ ‫۔۔۔۔۔۔‪۱‬‬ ‫۔۔۔۔۔ب‬ ‫۔۔۔۔۔ب‬ ‫۔۔۔۔۔۔ا‬ ‫۔۔۔۔۔۔‪۱‬‬ ‫۔۔۔۔۔ب‬ ‫۔۔۔۔۔ب‬ ‫۔۔۔۔۔۔ا‬ ‫مذکورہ ترتیب سے واضح ہوتا ہے کہ پہال مصرعہ چوتھے ‪،‬پانچویں اور‬ ‫آٹھویں مصرعے سے ہم قافیہ ہوگا۔دوسرا مصرعہ تیسرے‪،‬چھٹے اور ساتویں‬ ‫مصرعے سے ہم قافیہ ہوگا۔مثمن کے لیے قوافی کی مذکورہ ترتیب ہی معیاری‬ ‫ترتیب تصور کی جاتی ہے۔ اگر کوئی شاعر اس سے انحراف کرے گا تو یہ اس‬ ‫کی غلطی تصور کی جائے گی۔‬ ‫سانیٹ کا دوسرا حصہ جو مسدس ہوتا ہے مزید تین تین مصرعوں (مثلث)کے‬ ‫دو بندوں پر مشتمل ہوتا ہے۔مسدس حصے میں مثمن کے برعکس دو سے زائد‬ ‫قافیے استعمال کیے جاتے ہیں۔عموما ً قوافی کی ترتیب اس طرح ہوتی ہے۔‬ ‫‪:‬اگر دو قوافی استعمال کیے گئے ہوں تو صورت حال درج ذیل ہوگی‬ ‫۔۔۔۔۔ج‬

‫۔۔۔۔۔۔د‬ ‫۔۔۔۔۔ج‬ ‫۔۔۔۔۔۔د‬ ‫۔۔۔۔۔ج‬ ‫۔۔۔۔۔۔د‬ ‫درج باالصورت میں سانیٹ کا نواں مصرع گیارہویں اور تیرھویں مصرعے‬ ‫کے ہم قافیہ ہوگا اور دسواں مصرع بارھویں اورچودھویں مصرعے کے ہم‬ ‫قافیہ ہوگا۔‬ ‫‪:‬اگر قوافی کی تعداد تین ہوتو‬ ‫۔۔۔۔۔۔ج‬ ‫۔۔۔۔۔۔۔د‬ ‫۔۔۔۔۔۔۔ہ‬ ‫۔۔۔۔۔۔ج‬ ‫۔۔۔۔۔۔۔د‬ ‫۔۔۔۔۔۔۔ہ‬ ‫تین قوافی کے استعمال کی صورت میں نواں مصرع بارہویں مصرعے‬ ‫کا‪،‬دسواں مصرع تیرھویں مصرعے کا اور گیارھوں مصرع چودویں مصرعے‬ ‫کا ہم قافیہ ہوگا۔درج باالقوافی کی ترتیب میں معمولی تبدیلیاں ہو سکتی ہیں لیکن‬ ‫عام شکلیں وہی رہیں گی جن کا اوپر ذکر کیا جا چکا ہے۔درج باال تجزیے سے‬ ‫پٹرارک کی سانیٹ میں کل پانچ قافیے استعمال ہوتے ہیں ۔‬

‫نظم کی دیگر اصناف کی مانندسانیٹ بھی خیال ‪ ،‬جذبے اور احساس کا ترجمان‬ ‫ہوتا ہے ۔ وحدت خیال سانیٹ کی امتیازی خصوصیت تصور کی جاتی ہے۔خیال‬ ‫اور جذبے کی شدت کو بطور تمہید سانیٹ کے ابتدائی حصے یعنی مثمن میں‬ ‫پیش کیا جاتا ہے‪ ،‬کوئی سوال یا کوئی مسئلہ زیر بحث الیا جاتا ہے۔ آٹھ‬ ‫کہا جاتا ہے۔اس وقفے ‪ Caesura‬مصرعوں کے بعد ایک وقفہ ہوتا ہے جسے‬ ‫کے بعد قصیدے کی طرح شاعر گریز سے کام لیتا ہے جسے سانیٹ کی‬ ‫کہا جاتا ہے۔گریز یعنی وولٹا ا س بات کی دلیل ہے کہ خیال ‪ volta‬اصطالح میں‬ ‫ابھی اختتام پذیر نہیں ہوا بلکہ اس کو نئی جہت عطا کر دی گئی ہے ۔ بعض‬ ‫میں پیش کردہ خیال کی تردید مسدس حصے میں )‪(Octave‬صورتوں میں مثمن‬ ‫کی جاتی ہے یا ان ذہنی الجھنوں ‪،‬پیچیدگیوں اورپریشانیوں کو سلجھایا جاتا‬ ‫ہے‪،‬جو تمہید کے طور پر سانیٹ کے پہلے حصے میں بیان کی جاتی ہیں ۔گریز‬ ‫میں شاعر کا امتحان ہوتا ہے کہ وہ کس مہارت اور چابکدستی سے خیال کو نیا‬ ‫رخ عطاکرتا ہے کہ سانیٹ میں وحدت خیال کو گزند بھی نہ پہنچے اورخیال‬ ‫کادوسرا رخ بھی اس انداز سے سامنے آئے کہ اس کا تسلسل برقرار‬ ‫رہے۔انگریزی ادب میں پٹرارک کے انداز پہ سانیٹ ملٹن ‪ ،‬ورڈورتھ اور کیٹس‬ ‫‪:‬نے کامیابی سے پیش کیے ہیں ۔اردوشاعری میں سانیٹ کی مثال مالحظہ ہو‬ ‫کسی کو عیش میں دیکھا ‪ ،‬کسی پر زحمتیں دیکھیں‬ ‫کسی کو خواب راحت میں ‪،‬کسی کو بے قراری میں‬ ‫کسی کے یار ہم پہلو‪ ،‬کسی کو دل فگاری میں‬ ‫کسی کو نشہ دولت ‪،‬کسی پر آفتیں دیکھیں‬ ‫غضب کے ولولے دیکھے‪ ،‬بال کی حسرتیں دیکھیں‬ ‫کسی کے دن گزرتے دیکھے ذلت وخواری میں‬ ‫کسی کی رات کٹتے دیکھی فریاد اور زاری میں‬

‫نہیں معلوم ان آنکھوں سے کیا کیا صورتیں دیکھیں‬ ‫۔۔۔۔۔۔۔‬ ‫جہاں میں اس قدر اضداد کیوں ہے ماجرا کیا ہے؟‬ ‫بہت کچھ اپنا سر مارانہ کچھ اس کا پتا پایا‬ ‫کسی ہللا والے سے جو پوچھوں تو یہ کہتا ہے‬ ‫مقدر ہے یہ اس کا بھید تو ہرگز نہ سمجھے گا‬ ‫کوئی کہتا ہے باعث اس کا فطرت کا تقاضا ہے‬ ‫)مگر‪ ،‬کیا مصلحت اس میں ہے یا رب کچھ نہیں کھلتا (عظیم الدین احمد‬ ‫‪:‬انگریزی سانیٹ‬ ‫ارل آف سرے ہنری ہارورڈ نے سولہویں صدی کے نصف اول میں انگریزی‬ ‫سانیٹ کی نئی شکل وضع کی جو تکنیک کے لحاظ سے اطالوی سانیٹ سے‬ ‫مختلف تھی۔انگریزی سانیٹ میں اطالوی سانیٹ کے برعکس پانچ کی بجائے‬ ‫سات قافیے استعمال ہوتے ہیں۔مذکورہ فارم دو حصوں کی بجائے چار حصوں‬ ‫شامل ہوتے ہیں اور آخر میں ‪)Quatrains‬پر مشتمل ہوتی ہے۔اس میں تین (مربع‬ ‫دو ہم قافیہ مصرعے استعمال کیے جاتے ہیں ۔ہر مربع میں دو دو قافیے‬ ‫‪:‬استعمال کیے جاتے ہیں ۔ان قوافی کی ترتیب کچھ یوں ہوتی ہے‬ ‫پہال مربع‪ :‬۔۔۔۔۔۔۔‪۱‬‬ ‫۔۔۔۔۔۔ب‬ ‫۔۔۔۔۔۔۔‪۱‬‬ ‫۔۔۔۔۔۔ب‬ ‫دوسرا مربع ‪:‬۔۔۔۔۔۔ج‬

‫۔۔۔۔۔۔۔د‬ ‫۔۔۔۔۔۔ج‬ ‫۔۔۔۔۔۔۔د‬ ‫تیسرا مربع‪:‬۔۔۔۔۔۔۔ہ‬ ‫۔۔۔۔۔۔۔و‬ ‫۔۔۔۔۔۔۔ہ‬ ‫۔۔۔۔۔۔۔و‬ ‫آخری حصہ‪ :‬۔۔۔۔۔۔ز‬ ‫۔۔۔۔۔۔ز‬ ‫ہنری ہارورڈ کے اس انداز کو شیکسپئیرنے دوام بخشا اور اسے اتنی مقبولیت‬ ‫نصیب ہوئی کہ یہ اپنے موجد کے نام کے بجائے ولیم شیکسپئیر کے نام سے‬ ‫جانا جاتا ہے۔پیٹرارک کے سانیٹ کی طرح اس میں آٹھویں مصرعے کے اختتام‬ ‫پر وقفہ اور گریز نہیں ہوتا۔اس میں خیال آغاز سے انجام تک ایک ہی انداز میں‬ ‫کارفرما رہتا ہے۔آخری دو مصرعوں میں خیال اپنے نقطہ عروج کو چھوتا‬ ‫دکھائی دیتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ انگریزی سانیٹ مینآخری دو مصرعے اہمیت‬ ‫کے حامل ہوتے ہیں۔انگریزی سانیٹ میں فنکار کے فن کا امتحان ان ہی آخری‬ ‫دو مصرعوں میں نمایاں ہوتا ہے۔ وقفہ اور گریز کی عدم موجودگی اور پانچ‬ ‫کے بجائے سات قوافی کاا ستعمال انگریزی سانیٹ کو اطالوی سانیٹ کے‬ ‫مقابلے میں سہل بنا دیتا ہے۔فنی اور تکنیکی اعتبار سے یہ سانیٹ اطالوی‬ ‫سانیٹ کے مقابلے میں کم حیثیت ہے اسی باعث اسے بے ضابطہ سانیٹ بھی‬ ‫کہا جاتا ہے۔شیکسپئیر سے پہلے سر فلپ سڈنی اس تکنیک کے مطابق سانیٹ‬ ‫تخلیق کر رہاتھا۔شیکسپئیر اس لیے اہم ہے کہ اس نے اپنی تخلیقی صالحیتوں‬ ‫‪:‬سے اس کو دوام بخشا۔شیکسپئیری سانیٹ کی اردو میں مثال مالحظہ ہو‬

‫محبتوں کا مارا بستر پر جو میں سونے لگا‬ ‫بہترین راحت سفر سے چور اعضا کے لیے‬ ‫بس وہیں سود از وہ دل کو سفر ہونے لگا‬ ‫جب تھکا تن دل چال سیر و تماشا کے لیے‬ ‫میں جہاں ہوں اس جگہ سے یہ تمنائے دل‬ ‫اس گھڑی لے جاتی ہے تیری زیارت کے لیے‬ ‫ہر طرف چھایا ہے جب گو دونوں آنکھیں ہیں کھلی‬ ‫وہ اندھیرا جو منافی ہے بصارت کے لیے‬ ‫پر تیری تصویر کو میرے قوائے باطنی‬ ‫جب لگا التے ہیں چشم بے بصر کے سامنے‬ ‫یوں دماغ و دل میں ہو جاتی ہے اس دم روشنی‬ ‫جیسے عکس مہ چمک جائے نظرکے سامنے‬ ‫۔۔۔۔۔۔۔۔‬ ‫دن کو ہے بس کوچہ گردی‪ ،‬شب کو فانوس خیال‬ ‫)یہ ہے میرے دن کی کیفیت‪ ،‬یہ میری شب کا حال (عظیم الدین احمد‬ ‫‪:‬اسپنسری سانیٹ‬ ‫انگریزی ادب میں اسپنسر نے سانیٹ کی بالکل نئی ہئیت کو متعارف کروایا۔‬ ‫اسپنسر ی سانیٹ میں بھی تین مربعے ہوتے ہیں اور شیکسپئیری سانیٹ کی‬ ‫طرح اس کے پہلے مربعے کا پہال مصرع تیسرے مصرعے سے اوردوسرا‬ ‫مصرع چوتھے مصرعے کا ہم قافیہ ہوتا ہے۔اسپنسری سانیٹ کا شیکسپئیری‬

‫سانیٹ سے فرق وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں ہر مربعے کا آخری مصرع بعد میں‬ ‫آنے والے مربعے کے پہلے مصرعے سے ہم قافیہ ہوتا ہے۔اسی طرح پہلے‬ ‫مربعے کا دوسرا مصرع دوسرے مربعے کا پہال قافیہ بن جاتا ہے اور دوسرے‬ ‫مربعے کا دوسرا قافیہ تیسرے مربعے کا پہال قافیہ بن جاتا ہے۔ آخری دو‬ ‫مصرعے شیکسپئیری سانیٹ کی طرح اسپنسری سانیٹ میں بھی ہم قافیہ ہوتے‬ ‫ہیں اور باقی تین بندوں سے الگ ہوتے ہیں۔اسپنسری سانیٹ میں قوافی کی‬ ‫‪:‬ترتیب کچھ یوں ہوگی‬ ‫پہال مربع‪ :‬۔۔۔۔۔‪۱‬‬ ‫۔۔۔۔ب‬ ‫۔۔۔۔۔‪۱‬‬ ‫۔۔۔۔۔ ب‬ ‫دوسرا مربع‪:‬۔۔۔۔۔ب‬ ‫۔۔۔۔۔ج‬ ‫۔۔۔۔۔ب‬ ‫۔۔۔۔۔ج‬ ‫تیسرا مربع‪:‬۔۔۔۔۔ج‬ ‫۔۔۔۔۔۔د‬ ‫۔۔۔۔۔ج‬ ‫۔۔۔۔۔د‬ ‫آخری شعر‪:‬۔۔۔۔۔د‬ ‫۔۔۔۔۔ہ‬

‫قوافی کی اس ترتیب سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس میں بھی پیٹرارکی‬ ‫سانیٹ کی مانند پانچ قوافی مستعمل ہیں۔اس کاچار حصوں میں منقسم ہونا‬ ‫شیکسپئیری سانیٹ سے مماثلت پیدا کرتا ہے‪،‬لیکن قوافی کی ترتیب ‪،‬اسے‬ ‫شیکسپئیری سانیٹ سے جداحیثیت عطاکرتی ہے۔اسپنسر کی ایجاد کردہ یہ طرز‬ ‫عوام میں مقبولیت حاصل نہ کر سکی۔اسپنسری سانیٹ کی اردو مثال مالحظہ‬ ‫‪:‬ہو‬ ‫مل کے اک جان ہوئے دو نیم ہم رشتہ بدن‬ ‫روح کی پیاس بجھی جسم کے پیمانے سے‬ ‫یک بیک کھلنے لگے جاگتے خوابوں کے چمن‬ ‫بڑھ گیا لطف حقیقت ہر اک افسانے میں‬ ‫۔۔۔۔۔۔۔‬ ‫ہم سفر جسموں کے خلوت میں قریب آنے سے‬ ‫نور برسانے لگا محفل قدسی کا شباب‬ ‫تیرہ بختی گئی اک رات کے آجانے سے‬ ‫صبح تقدیر نے الٹی رخ روشن سے نقاب‬ ‫۔۔۔۔۔۔۔۔‬ ‫آہ ! وہ رات کہ تھی سیکڑوں صبحوں کا جواب‬ ‫کھو دیا میں نے اسے دن سے اجالوں میں کہاں‬ ‫میں نے ہر رات میں دیکھے ہیں اسی رات کے خواب‬ ‫کاش بن جائیں حقیقت یہ مرے خواب جواں‬

‫۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬ ‫!کاش مل جائے مجھے پھر سحر آثار وہ رات‬ ‫)پھر میری عمر گریزاں کو میسر ہو ثبات! (حنیف کیفی‬ ‫اردو شاعری میں سانیٹ کی روایت کا جائزہ لیا جائے تویہ بات سامنے آتی ہے‬ ‫کہ اردو میں نہ صرف اطالوی اور شیکسپئیری سانیٹ وجود میں آئے بلکہ دو‬ ‫نئی ہئیتوں میں سانیٹ لکھنے کا رواج ہوا ۔ان میں ایک ’’اردو سانیٹ‘‘ اور‬ ‫دوسرا’’شیرانی سانیٹ‘‘ ہے۔اردو سانیٹ شیکسپئیری سانیٹ کی بدلی ہوئی شکل‬ ‫ہے۔شیکسپئیری سانیٹ کے برعکس اس میں قوافی کی ترتیب کچھ یوں بنتی‬ ‫ہے۔’’ا‪،‬ب‪،‬ب‪،‬ا ‘ج‪،‬د‪،‬د‪،‬ج‘ھ‪،‬و‪،‬وھ‘ ز‪،‬ز‘‘اس طرح اردو سانیٹ میں پہال مصرع‬ ‫چوتھے مصرع کا اور دوسرا مصرع تیسرے مصرعے کا ہم قافیہ ہوتا ہے۔اردو‬ ‫سانیٹ کی مروجہ ہئیت کی بنیاد کس نے رکھی اس کے بارے میں حتمی رائے‬ ‫دینا مشکل کام ہے۔اختر شیرانی نے سانیٹ کی ایک نئی ہیئت کو رواج دیا جو‬ ‫ان کے نام سے موسوم ہو ئی۔ شیرانی سانیٹ میں قوافی کی ترتیب یوں ہوتی‬ ‫ہے۔’’ا‪،‬ب‪ ،‬ب‪،‬ا‘ا‪،‬ب‪،‬ب‪،‬ا‘ج‪،‬د‪،‬د‪،‬ج‘ہ‪،‬ہ‘‘شیرانی سانیٹ کا مثمن حصہ پیٹرارکی‬ ‫سانیٹ سے مماثل ہے۔مسدس حصے میں قوافی کی ترتیب ذرا مختلف ہے جو‬ ‫وائٹ کے سانیٹ سے مماثل ہے۔اس ضمن شیرانی کے سانیٹ ’’ عذرا‘‘ کی مثال‬ ‫‪:‬مالحظہ ہو‬ ‫عذرا‬ ‫پری و حور کی تصویر ناز نیں عذرا‬ ‫شہید جلوۂ دیدار کر دیا تونے‬ ‫نظر کو محشر انوار کر دیا تونے‬ ‫بہارو خواب کی تنویر مر مریں عذرا‬ ‫شراب و شعر کی تفسیر دل نشیں عذرا‬

‫دل و دماغ کو سر شار کر دیا تونے‬ ‫شباب و شعر کو بیدار کر دیا تونے‬ ‫مری حسیں مری ناز آفریں عذرا‬ ‫دیار دل میں تو آئی بہار کی صورت‬ ‫گدائے حسن سے اظہار عشق تونے کیا‬ ‫گناہ گار سے اقرار عشق تونے کیا‬ ‫بسی دماغ میں کیف و خمار کی صورت‬ ‫مٹا سکے گا نہ اب دور آسماں مجھ کو‬ ‫)کہ ہے نصیب تیرا عشق نوجواں مجھ کو (اختر شیرانی‬ ‫موضوع کے اعتبار سے دیکھا جائے تو سانیٹ اور غزل میں بڑی حد تک‬ ‫مماثلت پائی جاتی ہے۔جس طرح ابتدائی دور میں غزل حسن و عشق کے لیے‬ ‫مختص تھی‪ ،‬اسی طرح سانیٹ کا موضوع بھی حسن و عشق ہی تھا۔پیٹرارک‬ ‫سے لے کر عہد الز بتھ تک کے تقریبا ً تمام شعرا نے سانیٹ میں اسی موضوع‬ ‫کو برتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انگریزی میں سانیٹ سے مراد مخصوص قسم کی‬ ‫عشقیہ نظم مراد لی جاتی ہے۔سانیٹ نگار کی محبوبہ غزل گو کے محبوب کی‬ ‫مانند بے رحم ‪ ،‬جفاکار‪،‬اور بے حس ہوتی ہے‪ ،‬جب کہ عاشق وفادار اور دل و‬ ‫جان سے اس پر فدا ہوتا ہے۔وہ اس کے عشق میں دیوانہ ہے اوراس کے غم‬ ‫مینآ ہیں بھرتا‪،‬اس کے ستم پر غصے کا اظہار کرتا اورالتفات کی بھیک مانگتا‬ ‫دکھائی دیتا ہے۔سولہویں صدی تک سانیٹ ان ہی موضوعات کے لیے مختص‬ ‫رہا ۔ملٹن نے اس روایت کو توڑا اور اس میں ذاتی معامالت اور ملکی حاالت‬ ‫کو منظوم کر کے اس کا دامن وسیع کیا ۔بعد ازاں ورڈز ورتھ نے فطرتی مناظر‬ ‫کے ساتھ ساتھ سیاسی‪ ،‬مذہبی اور سماجی موضوعات کے لیے اسے استعمال‬ ‫کیا۔اس کے بعد متنوع موضوعات سانیٹ میں بیان کیے جانے کا رواج ہوا۔‬